پشاور کے علاقے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئی، جبکہ ملبے تلے دب کر 51 بچے زخمی ہوئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سکول کی چھت گرنے کا واقعہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کالج روڈ پر پیش آیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
ترجمان محمد عاصم کا کہنا ہے کہ دیر کالونی واقعے کے 21 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کو مردہ حالت میں ایل آر ایچ لایا گیا ہے، ہسپتال میں ایمرجنسی نافز کر دی گئی ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جس میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔
ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال محمد عاصم کے مطابق تمام بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچیاں شامل ہیں۔
ترجمان ریسکیو پشاور کا کہنا ہے کہ سکول کی ایک چھت دوسری پر گرنے سے عمارت بیٹھ گئی، ملبے تلے دبنے سے بچوں کی اموائیں ہوئیں۔
سی سی پی او کے مطابق تین منزلہ پرائیویٹ سکول میں 110 بچے زیر تعلیم تھے، عمارت کی چھتیں خستہ حال تھیں، سکول تنگ گلیوں میں ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا۔
ایس ایس پی آیریشنز نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، سکول مالک کو بھی حراست میں لے لیا ہے، مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
واقعے کی تحقیقات کے لئے ڈی سی پشاور نے کمیٹی بنا دی، انکوائری کمیٹی سے ایک روز میں رپورٹ طلب کر لی گئی۔
واقعے کی ابتدائی رپورٹ
سکول کی عمارت گرنے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ کے مطابق سکول کی عمارت پہلے سے خستہ حال تھی، پہلے ایک کمرے کی چھت گری، امدادی کارروائیوں کیلئے رش بڑھنے پر سکول کی باقی عمارت بھی گر گئی۔
رپورٹ کے مطابق سکول میں بعض بچوں کو رہائش کی سہولت بھی دی گئی تھی، سکول قریبی مسجد کے امام کی ملکیت، دینی اور دنیاوی تعلیم دی جا رہی تھی۔






