کوہاٹ: کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب خودکش حملے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید ہو گئے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، مقابلے میں 7 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، دھماکے کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا، 5 اہلکار اور 11 شہری شہید ہو گئے۔
آئی جی نے مزید بتایا کہ کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشتگردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، ابتدا میں دہشتگردوں کے سنائپر کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک خود کش بمباراور سنائپر سمیت 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس نے مزید بتایا کہ پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا فتنہ الخوارج سے مقابلہ جاری ہے، اب تک خودکش حملہ آور سمیت 7 دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں، کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، دھماکے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر اس وقت ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینسز، ریسکیو اور ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین خود کررہے ہیں، ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
آئی جی پی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے، بزدلانہ حملے حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔






