تسمیہ سہیل قتل کیس: ورثاء کا جے آئی ٹی تشکیل دینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد (راحیل رزاق خان) کھوئی رٹہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی تسمیہ سہیل کے والدین نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیرچیف جسٹس آف پاکستان وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازوزیر اعظم آزاد کشمیر چیف جسٹس اور چیف سیکریٹری آزاد کشمیرآئی جی پولیس آزاد کشمیرسے مطالبہ کیا ہے کہ بچی کےاندھے قتل پر جے آئی ٹی تشکیل دے کر تحقیقات کو نئے سرے سے مکمل کیا جائے اور معصوم بچی تسمیہ سہیل کے اندھے قتل کا سراغ لگاکرقاتلوں اور سہولت کاروں کی فوری گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے انہیںکیفرکردار تک پہنچا کر انہیں انصاف مہیا کیا جائے،بچی کے والد سہیل احمد نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اپنی اہلیہ اور وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےکیا ورثاء کا مزیدکہنا تھا کہ 29 جولائی کو تسمیہ سہیل کو اغوا کیا گیا، جس کے بعد اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی گئی، پھر اسے بے دردی سے قتل کر کے اس کی لاش ویرانے میں پھینک دی گئی۔

انہوں نے یہ اندوہناک انکشاف بھی کیا کہ مقتولہ کے اندرونی اعضاء نکال دئیے گئے تھے، جس سے یہ شبہ مزید گہرا ہو گیا ہے کہ مجرمان نے شواہد مٹانے اور پوسٹ مارٹم میں رکاوٹ ڈالنے کی دانستہ کوشش کی۔پوسٹ مارٹم اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار، ورثاء کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ واقعے کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج تک نہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آئی ہے اور نہ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس غیر معمولی تاخیر نے خاندان کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔”صرف ایک گرفتاری کافی نہیں” پریس کانفرنس میں ورثاء نے کہا کہ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار ضرور کیا ہے، مگر اصل مجرمان اور سہولت کار تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اصل ملزمان اور ان کے مددگاروں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، انصاف مکمل نہیں ہوگا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنا سنگین اور انسانیت سوز واقعہ ہونے کے باوجود متعلقہ ادارے سست روی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں،

جس کی وجہ سے متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ورثاء نے پریس کانفرنس کے دوران ملک کی اعلیٰ ترین قیادت سے اپیل کی کہ فوری طور پر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس میںوفاقی حکومت کے نمائندےآزاد کشمیر حکو مت ا علیٰ پولیس حکام ایف آئی اےحساس ادارےاور عدالتی مبصرین شامل ہوںتاکہ غیر جانب دارانہ، شفاف، اور جامع تفتیش ممکن ہو اور مجرمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے۔اعلیٰ حکام سے براہِ راست اپیل لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ معاشرتی سانحہ ہے، جس پر ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں انہوں نے براہِ راست اپیل کی کہ:وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیرچیف جسٹس آف پاکستان وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازوزیر اعظم آزاد کشمیر چیف جسٹس اور چیف سیکریٹری آزاد کشمیرآئی جی پولیس آزاد کشمیراس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور جے آئی ٹی تشکیل دے کر تحقیقات کو نئے سرے سے مکمل کرائیں۔

“انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیےورثاءخاندان کا کہنا تھا کہ ہم صرف زبانی یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے، ہمیں عملی اقدامات اور شفاف انصاف چاہیے، جو نہ صرف تسمیہ کے لیے انصاف کا باعث بنے، بلکہ دیگر معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے بھی مثال قائم کرے۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی ہےکہ اگر اس کیس کو دبا دیا گیا تو ملک میں معصوم بچوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ایک آزاد عدالتی کمیشن بھی تشکیل دے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں