تحریر: طیبہ ریاست
(ماہر نفسیات، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سنی ٹرسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد)
اداسی ایک عام انسانی جذبات ہے جس کا تجربہ ہر ایک انسان دباؤ یا پریشانی کے وقت میں کرتا ہے۔اداسی ایک ایسا جذبہ ہے جو بظاہر خاموش رہتا ہے مگر یہ انسان کو اندر ہی اندر چپ چاپ کھا جاتا ہے۔ہماری روزمرہ زندگی میں کئی باتیں ہمیں خوشی دیتی ہیں لیکن ان ہی خوشیوں کے درمیان کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب دل بوجھل ہو جاتاہے،آنکھوں میں نمی بھر جاتی اور لب خاموش ہو جاتے ہیں ۔ اداسی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے کسی عزیز کی یاد، تنہائی ، ٹوٹے خواب، محرومیاں، گھر کے مسائل وغیرہ – اداسی کا تعلق خوراک سے بھی ہوتا ہے۔ برطانیہ کے ماہرین صحت کہتے ہیں کہ جو لوگ زیادہ میٹھا کھانے کے عادی ہوتے ہیں وہ اوسطا اور کم مقدار میں میٹھا کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ اداس رہتے ہیں ۔جب آپ اداس ہوں تو کہیں کہ اداسی میرے اندر ہے۔ لیکن کبھی یہ نہ کہیں کہ میں اداس ہوں۔ میں پریشان ہوں یا میں دکھی ہوں ۔ کیونکہ آپ اداسی کے اندر نہیں ہوتے ۔ اداسی آپ کے اندر ہوتی ہے اس لیے اس کی وجہ تلاش کریں۔سوچوں میں سسکنے کی بجائے عملی طور پر کچھ کریں۔خود کو اس صورت حال سے باہر نکالیں۔ خود کو سمجھائیں کہ میں جن حالات سے گزر رہا ہوں ۔ یہ ہمیشہ نہیں رہے گے۔ اب ان کی وجہ سے میں اداسی کو اجازت دوں کہ وہ میرے اندر پڑی رہے یا میں اسے اٹھا کر باہر پھینک دوں ۔ اختیار میرے پاس ہے۔ورزش اور باغبانی جیسے شوق اپنائیں تا کہ دماغ کی سوچ مثبت اور تخلیقی رہے اور اداسی کے جذبات کو فروغ نہ ملے۔روحانی رابطے کو مضبوط بنائیں۔ارشاد باری تعالٰی ہے”جو میری ھدایت کی پیروی کریں گے انکو نہ کچھ خوف ھو گا اور نہ غمناک ھوں گے”۔(آل عمران۔139)
“جان لو جو اللہ کے دوست انکو نہ کچھ خوف ھے اور نہ کوی غم ھے” ۔( یونس- 62)
اداسی شرمندگی کی بات نہیں۔ یہ زندگی کا حصہ ہے۔ اسے اپنائیں، اس سے سیکھیں، اور آگے بڑھنے کی راہ تلاش کریں۔ کیونکہ ہر رات کے بعد سویرا، اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی مقدر بنتی ہے۔
بقول شاعر
تمام جزبوں سے معتبر ھے
اداس آنکھوں سے مسکرانا






