عوامی مشکلات اور معاشی وعدے: حقائق اور حقیقتیں

تحریر: راحیل رزاق خان

ملکی معیشت بظاہر ڈیفالٹ سے تو بچ گئی ہے، لیکن یہ بچاؤ محض وقتی اور ساکھ بچانے کا عمل محسوس ہوتا ہے۔ کچھ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ معاشی تنزلی کی رفتار کو روک لیا گیا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ ایک لمبے اور مایوس کن دور کے بعد نئی حکومت نے معیشت کو سنبھالنے کی کچھ حد تک کوشش کی ہے، تاہم زمینی حقائق اب بھی عوام کے لیے باعثِ اذیت ہیں۔

عمرانی دور کے بعد معیشت میں جو مایوسی اور عدم استحکام دیکھنے میں آیا، اسے روکنے کے لیے نئی حکومت نے عالمی اداروں سے رجوع کیا، ان کی شرائط تسلیم کیں، اور اب وہی ادارے پاکستان کی معیشت سے متعلق مثبت بیانات دے رہے ہیں۔ ڈالر کی قیمت کو بے قابو ہونے سے روک دیا گیا ہے، لیکن اس کی موجودہ سطح اب بھی عام شہری کی جیب سے باہر ہے۔ بین الاقوامی ساہوکار ہم سے خوش ہیں کیونکہ ہم ان کی ہر شرط، ہر مطالبے پر اثبات میں سر ہلا دیتے ہیں۔

اس کے برعکس، عوام کی معاشی زندگی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ روزمرہ کی اشیاء عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ افراطِ زر کی شرح اعدادوشمار کے مطابق کچھ بھی ہو، عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ وجہ صرف مہنگائی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ قوتِ خرید میں بے رحمانہ کمی ہے۔ حکومت کی ٹیکس پالیسی نے عام شہری کی کمر توڑ دی ہے۔

مارکیٹ میں ہر چیز پر ٹیکس عائد ہے — ماچس سے لے کر دال، تیل، صابن، سرف تک۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں تو حد ہی کر دی گئی ہے۔ بجلی کے بل میں 12 سے زائد اقسام کے ٹیکس شامل کیے جاتے ہیں۔ صارف وہی بجلی استعمال کرتا ہے، اس کا بل ادا کرتا ہے، اور اس کے باوجود ماضی کے استعمال شدہ یونٹس پر بھی نئے چارجز لگا دیے جاتے ہیں۔ میٹر کی قیمت ادا کرنے کے باوجود ہر ماہ اس کا کرایہ بھی لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، 200 یونٹ تک کا ٹیرف اور 201 پر اچانک اگلے سلیب کا نفاذ ایسا نظام ہے جس میں منطق تلاش کرنا مشکل ہے۔ عوام کی فریادیں ایوان اقتدار تک پہنچ ہی نہیں پاتیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کی جاتی ہیں۔

پٹرول کی قیمت وہ عنصر ہے جو پوری معیشت میں ایک زلزلہ لے آتا ہے۔ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہوں، پاکستان میں پٹرول مہنگا ہو رہا ہوتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کا مطلب ہے ہر شے کی قیمت میں اضافہ، اور یہ عوام کی زندگی کو مزید مشکلات میں دھکیل دیتا ہے۔

2025-26 کے وفاقی بجٹ کو دیکھیں تو یہ محض ٹیکس اکٹھا کرنے کی مشق لگتا ہے۔ ریاستی قرضے اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ قرض پر سود ادا کرنے کے لیے بھی مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ اس بوجھ کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے دفاعی اخراجات کو جواز بنایا ہے۔

یقیناً، بھارت کو مئی میں عبرتناک شکست دینا ہماری بڑی کامیابی تھی، مگر اب وہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہمیں بھی چوکنا اور تیار رہنا ہے۔ دفاعی اخراجات میں کمی ممکن نہیں، کیونکہ “ملک ہوگا تو سب کچھ ہوگا”، مگر ریاستی اخراجات، اشرافیہ کے مراعات، سرکاری شاہ خرچیاں کم کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔

ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن ختم کرنے پر فوری عمل درآمد دکھایا گیا ہے، جبکہ ایوانوں اور محلات میں کوئی کفایت شعاری نظر نہیں آتی۔ بزرگ ملازمین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، مگر قومی بجٹ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ اگر ترقی صرف اعدادوشمار میں ہے، اور عوام کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آ رہی، تو یہ ترقی کس کے لیے ہے؟ حکومتوں کو سوچنا ہوگا کہ اگر ریاست کے شہری ہی ناامید ہو جائیں، تو پھر ترقی کے گراف اور رپورٹیں بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں