اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ہمیں خوشی ہے نصف صدی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا کیس براہ راست دکھایا جارہا ہے،
قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون فیصلے کرنے والے تھے اور کون کروانے والے ہیں ،دو ہزار سترہ کے کرداروں پر خاموشی اختیار کرنا جرم ہے اس کے بغیر ریاست پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف نے کہا ک آج نصف صدی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا کیس سنا جا رہا ہے ہمیں خوشی ہے کہ لائیو دکھایا جا رہا ہے کہ ہوتا کیا رہا ہے قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون فیصلے کرنے والے تھے اور کون کروانے والے ہیں قوم کو یہ حقائق معلوم ہوں تو آئندہ انتخابات میں بہتر قیادت منتخب کر سکیں گے
ہم یہی چاہتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نواز شریف کے ساتھ کیا ہوایہ کیسا انصاف ہے جو سابق وزرائے اعظم کے ساتھ ہوتا رہابیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر جو انتقام لیا گیا قوم کو بتایا جائے وہ کون تھے وہ لوگ نواز شریف کے انتقام میں اندھے تھے جنھوں نے ملک کو گرداب میں پھنسا دیاملک و قوم کی بربادی اور اداروں کی بے توقیری کا سبب بنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے یہ اقدام انتقام نہیں بلکہ قوم کو درست سمت لے جانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کا فیصلہ دینے والے کے خلاف تو ریفرنس آ گیا اور سیاست میں مداخلت کے مجرم کو ترقی دے دی گئی
دو ہزار سترہ کے کرداروں پر خاموشی اختیار کرنا جرم ہے اس کے بغیر ریاست پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتی ہے، یہ ہماری انا کا مسئلہ نہیں ووٹ کو عزت دو پہ ہم زیادہ سختی سے قائم ہیں کہ نصف صدی کے بعد اداروں کو بھٹو کیس اٹھانا پڑابیٹے سے تنخواہ نہ لینے والا تاحیات نااہل ہو گیا تو کیا فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے دہشت گرد نہیں؟؟؟جہاں فیصلے لینے والے مجرم ہیں وہاں دباؤ میں فیصلے دینے والے بھی مجرم ہیں؟ بندیال نے جس طرح لاڈلے کی سہولت کاری کی کیا پہلے کسی کو ایسی سہولت کاری دی گئی؟ آج جیل میں بھی لاڈلے کی سہولت کاری ہو رہی ہے_ کیا پاکستان میں کسی دوسرے قیدی کو دیسی مرغیاں کھلائی جاتی ہیں؟ کیا پاکستان میں کسی دوسرے مجرم کو دیواریں توڑ کر جیل میں جم بنا کر دیا گیا؟






