بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے، سردارتنویرالیاس خان

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ/سردار غلام نبی کشمیری)سابق وزیراعظم و صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت بارے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے، اقوام متحدہ کو اس خلاف ورزی پر نوٹس لینا ہو گا،

پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام سمیت آزادو مقبوضہ جموں کشمیر کے تمام لوگ اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جموں کشمیر کے مستقبل بارے اقوام متحدہ کی منطور شدہ قراردادیں اور دونوں ملکوں کے معاہدے موجود ہیں جس میں جموں کشمیر عالمی متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے مودی کی خواہش پر ہر اصول و قانون کی دھجیاں اڑا دی ہین، ہم بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں

کشمیری بھارت سے آزادی کیلئے نئے عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے،سردار تنویر الیاس خان نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ زمینی وتاریخی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا، متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کبھی بھی ہندوستان کا حصہ تھی نہ ہے، اس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے ہی ہونا ہے اور اگر ہندوستان کو اپنے دعوؤں کی سچائی پر یقین ہے تو اسے مقبوضہ خطہ میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے انتخابات کے بجائے ریاست بھر میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی رائے شماری کے انعقاد پر آمادگی ظاہر کرنا چاہیے۔

سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ بھارتی عدلیہ پر افسوس ہے کہ اس نے ایک بار پھر خود کو بنیاد پرست عدالت کے طور پر پیش کیا جو آئینی قانونی، تاریخی حقائق کو روند کر انتہا پسند حکومت کی خوشنودی کیلئے فیصلے کرتی ہے۔بھارتی حکومت اور اسکی نام نہاد عدلیہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑانے کا اختیار نہیں دیا جا سکا، کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کا مشن ہمارے خون میں ہے،ہم تمام کشمیری بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں