اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا ہے ۔
حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ سیکرٹری، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی ایمان مزاری کو گرفتار نہیں کریں گے۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ سیکرٹری داخلہ، پولیس اور ایف آئی اے کسی صوبے کی گرفتاری میں معاونت نہیں کریں گے، ایمان مزاری کو اسلام آباد کی حدود سے باہر نہ لے جانے کو یقینی بنائیں۔
حکم نامے کے مطابق سیکرٹری داخلہ ایمان مزاری کیخلاف مقدمات سے متعلق آگاہ کریں، ایس ایس پی آپریشنزکے مطابق اسلام آباد میں ایمان مزاری کیخلاف تین مقدمے درج ہیں۔
عدالت نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے مطابق ایمان مزاری اسلام آباد کے دومقدمات میں ضمانت پر ہے، پٹشنرکی والدہ نے کہا تیسرے مقدمے میں ضمانت کی صورت میں پھرگرفتاری کا خدشہ ہے ،عدالت سے 16 مئی والے فواد چوہدری کیس کا آرڈرکرنے کی استدعا کی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری کو اسلام آباد سے باہر لے جانے اور 20 اگست کے بعد کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے حکم میں توسیع کی تھی۔
چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری پر اہلیہ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر چودھری پرویز الہٰی کو گرفتار کرنے پر ان کی اہلیہ نے لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں نگران حکومت پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی صدر کی اہلیہ کی جانب سے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ چودھری پرویز الہٰی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا، ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ کو نظر بند کرنے سے روک دیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر پی ٹی آئی چودھری پرویز الہٰی کو لاہور سے اسلام آباد پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا تھا۔اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ پرویز الہٰی کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پرویز الہٰی کو کوئی اتھارٹی، کوئی ایجنسی گرفتار نہیں کرے گی، کسی بھی قانون کے تحت نظر بند بھی نہیں کیا جائے گا۔






