اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے الیکشن میں اتحاد ممکن ہے،اگلے انتخابات میں مینڈیٹ ملا تو نوازشریف ہی وزیراعظم بنیں گے، بطور وزیراعظم ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جو بہت بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ہر صورت مقررہ وقت پر ہوں گے۔مینڈیٹ ملا تو نوازشریف ہی وزیراعظم بنیں گے۔نوازشریف میرا لیڈر اور میں ان کا کارکن ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ سیاست میں ضد سے نہیں بلکہ معاملات کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے الیکشن میں اتحاد ممکن ہے۔مجھ پرتو سیاسی مقدمات بنے۔سب کچھ برداشت کر لیا۔بیٹی اور بھتیجی کو بھی عدالتوں اور جیلوں میں گھسیٹنا ناقابل برداشت تھا۔بطور وزیراعظم سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ ملک ڈیفالٹ سے بچایا۔16 ماہ دن رات محنت کی کہ عوام کی بھلائی کے لیے کچھ کر سکوں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو آئی ایم ایف کی ایم ڈی کی کال آ گئی ، کال میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ بحال ہو گیا، میرے لیے سب سے بڑی خوشی تھی۔سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے تمام اخراجات خود اپنی جیب سے ادا کیے۔ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ کھانے دال روٹی بہت پسند ہے،مجھے کھانا پکانا بالکل نہیں آتا۔سوئمنگ کا شوقین ہوں اور ڈاکٹرز نے بھی یہی تجویز کیا ہے۔خیال رہے کہ شہباز شریف حال ہی میں وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہوئے جس کے بعد انوار الحق کاکڑ نے نگران وزیراعظم کے طور ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم ہیں۔






