اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا، کچھ گروپس کی جانب سے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے لیکن ان کے ساتھ ریاست اور سوسائٹی سختی کے ساتھ نمٹے گی۔وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ ہماری ٹیم بہترین ہے، مجھے معلوم ہے کہ ہمارے پاس دائمی مینڈیٹ نہیں ہے، اس مخصوص مدت کے دوران ہم کوشش کریں گے کہ ملکی اور عالمی وعدوں کو پورا کریں جو گزشتہ حکومتوں نے کی ہیں۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہم نے اقدامات بھی کریں گے، جس کی قانون اور آئین ہمیں اجازت دیتا ہے، خاص طور پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، اس سے ہمارا خواب پورا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب میں چھوٹا تھا اور پاکستان کے حوالے سے سوچتا تھا، ہمیں بتایا جاتا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، پاکستان کے پاس وسیع معدنی وسائل ہیں، ہمیں اپنے قدرتی وسائل پر فخر ہے لیکن ہمیں پتا نہیں تھا کہ وہ وسائل کونسے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ تمام اداروں کی حمایت، جس میں پاکستان ملٹری کا قابل لیڈرشپ اس پرانے قومی خواب کی حمایت، سہولت اور حوصلہ افزائی کرتی ہے، میرا اپنا خیال ہے کہ یہ ادارے کا اپنا آئیڈیا یا خواب نہیں ہے وہ اس کے لیڈ رول میں ہے، لیکن تقریباً 25 کروڑ افراد اس کو مشترکہ طور پر اون کرتے ہیں۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک پولرائز سوسائٹی ہے، اس ماحول میں ہم سیاست اور قانون کے درمیان فرق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی صورت میں رول آف آرڈ پر سمجھوتا نہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر افراتفری کی صورتحال ہوتی ہے تو کوئی بھی گورننس یا سیکولر سسٹم، مذہبی یا کوئی بھی بیوروکریٹک سسٹم نہیں چل سکتا، لہٰذا تقدس کو ہر صورت میں برقرار رکھا جائے گا۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جبر کسی بھی شکل میں ہو، ہم اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، یہ شدت پسندی کو ناپسند کیا جائے گا اور اسے قانون کے ذریعے قابو میں لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی چیلنجز کے ساتھ ہماری قابل ٹیم مالیاتی ڈسپلن کو یقینی بنانے کی کوشش گی، ہمیں ٹیکس پیئر کے پیسوں کی قدر ہے، وکیل، دکاندار، سول سرونٹ، ٹیچر یہ سب ٹیکس ادا کرتے ہیں کہ ہم ان کے لیے سماجی خدمات ادا کریں، ہم نے تحفظ کا ماحول فراہم کریں۔نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے، اس کا مظاہرہ ہم اپنے کام سے کریں گے، ملک میں اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا، کچھ گروپس کی جانب سے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے لیکن ان کے ساتھ ریاست اور سوسائٹی سختی کے ساتھ نمٹے گی۔






