اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) سینیٹ میں پرتشدد انتہاپسندی کا بل منظور نہ ہو سکا ،چیئرمین سینیٹ نے مختلف سینیٹرز کی مخالفت کے بعد بل کو ڈراپ کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل وزیر مملکت شہادت اعوان نے پیش کیا، اپوزیشن کی جانب سے بل پیش کرنے پر احتجاج کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے مجوزہ بل پر ایوان سے رائے مانگی تومختلف سینیٹرز کی جانب سے بل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اورحکومت کو اپنی ہی جماعت کے سینیٹر سمیت اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی بھرپور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ جے یو آئی (ف)، نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی کی جانب سے بھرپور مخالفت اور واک آؤٹ کی دھمکی بھی دی گئی۔ جمعیت علما اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بل صرف تحریک انصاف کے خلاف نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کیخلاف ہے اور یہ تمام سیاسی جماعتوں کے گلے کا پھندہ بنے گا اوریہ بل جمہوریت کیخلاف ہے اور جمہوریت کے تابوت میں آخری ثابت ہو گا ۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت کے تیور بتا رہے ہیں وہ اس بل کو کمیٹی میں بھیجنے کی اجازت نہیں دیں گے اور وہ اس بل پر بحث کی بھی اجازت نہیں دے گی۔سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا ہے کہ بل کے سیکشن 5 اور 6 ڈریکونین ہیں، یہ پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی کا بل ہے، کسی سیاسی لیڈر یا جماعت کو جبر سے ختم کرنے کی کوشش غلط ہے۔جماعتِ اسلامی کے سینیٹر نے کہا کہ اس بل سے الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کو یکساں میدان ملنا مشکوک ہو جاتا ہے، اس بل سے الیکشن کا صاف شفاف انعقاد بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت اس بل کو ہر صورت کمیٹی کو بھیجے، قواعد و ضوابط پامال نہ کرے، پارلیمنٹ کو ربر اسٹمپ، انگوٹھا چھاپ اور بے کار نہ بنائیں، اس بل کے نتائج جمہوریت، سیاست، پارلیمنٹ اور میڈیا کی آزادی کے لیے خطرناک ہوں گے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل ہمارے لیے طعنہ بنے گا، اس بل میں بنیادی حقوق متاثر ہوں گے، پارٹی کا پتہ نہیں، میں اس بل کی حمایت نہیں کر سکتا۔تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کی سازش ہے، اس بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے۔سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی نے قانون سازی پر اپنی ہی حکومت پر تنقید کی ہے۔اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آج انتہائی اہم بل پیش کیے جا رہے ہیں، پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل 2023ء اہمیت کا حامل ہے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہیے تھا، کل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی جلد بازی میں بل پاس ہو رہا ہے اور کل کہا جائے گا کہ بل پاس ہو رہا تھا تو آپ کہاں تھے۔اجلاس میں وفاقی وزیر شیری رحمٰن نے کہا کہ بل عجلت میں پاس کرنے میں کوئی ممانعت نہیں، ہم اس بل میں اپنی ترامیم لائیں گے۔ پارلیمانی رہنماؤں کی موجودگی میں اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا تھا، اگر بل قائمہ کمیٹیوں میں گئے تو پھر لیپس ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی کی مدت کم رہ گئی جو بل وہاں پاس ہوئے انہیں منظور کرنا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل دوبارہ ایوان میں لانے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج بل موخر کردیا ہے تاکہ اگلے ورکنگ ڈے پر اس کو لے آئیں، ایسا نہ کہیں کہ چھٹی کے دن اسی لیے اجلاس بلایا گیا، صردف اس لیے بل موخر کیا ہے تاکہ موقع نہ دیں ان لوگوں کو بات کرنے کا، ورکنگ ڈے پر لے آئیں گے بل کوئی بات نہیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ حکومت بل کو ڈراپ کرے یا نہ کرے میں اسے ڈراپ کررہا ہوں ۔واضح رہے کہ بل کے متن کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی سے مراد نظریاتی عقائد، مذہبی و سیاسی معاملات میں طاقت کا استعمال اور تشدد ہے، اس کے علاوہ اس میں فرقہ واریت کی خاطر دھمکانا یا اکسانا، فرقہ واریت کی ایسی حمایت کرنا جس کی قانون میں ممانعت ہو، پرتشدد انتہا پسندی میں شامل کسی فرد یا تنظیم کی مالی معاونت کرنا یا تشدد اور دشمنی کیلئے اکسانا بھی شامل ہے۔مجوزہ بل کے مطابق شیڈول میں شامل شخص کو تحفظ اور پناہ دینا پرتشدد انتہاپسندی ہے، پرتشد انتہاپسندی کی تعریف کرنا اور اس کیلئے معلومات پھیلانا بھی پرتشدد انتہاپسندی میں شامل ہے۔حکومت کسی شخص یا تنظیم کو پرتشدد انتہاپسندی پر لسٹ 1 اور 2 میں شامل کر سکتی ہے۔لسٹ ون میں وہ تنظیم ہوگی جو پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث ہو، جس کا سربراہ پرتشدد ہو، اس لسٹ میں نام بدل کر دوبارہ منظرعام پر آنے والی تنظیمیں بھی شامل ہوں گی۔بل کے مطابق لسٹ ٹو میں ایسے افراد شامل ہیں جو پرتشدد انتہاپسندی میں ملوث ہوں، لسٹ 2 میں پرتشدد ادارے، لیڈر یا پرتشدد ادارے کی مالی معاونت کرنے والے بھی شامل ہوں گے، حکومت پرتشدد فرد اور پرتشدد تنظیم کی میڈیا تک رسائی یا اشاعت پر پابندی لگائے گی۔بل میں کہا گیا کہ پرتشد فرد یا تنظیم کے لیڈر یا فرد کی پاکستان میں نقل وحرکت یا باہر جانے پر پابندی ہوگی، اس کے علاوہ حکومت پرتشدد تنظیم کے اثاثے کی چھان بین کرے گی۔بل میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ حکومت پرتشدد تنظیم کے لیڈر، عہدیداروں اور ممبران کی سرگرمیاں مانیٹر کرے گی، پرتشدد تنظیم کے لیڈر،عہدیداروں، ممبران کا پاسپورٹ ضبط ہوگا اور بیرون ملک سفر کی اجازت نہ ہوگی۔بل کے متن کے مطابق پرتشدد تنظیم کے لیڈر، عہدیداران اور ممبران کا اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا، اثاثے، پراپرٹی اور بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیئے جائیں گے، اس کے علاوہ پرتشدد تنظیم کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی اور کوئی مالیاتی ادارہ پرتشدد تنظیم کے لیڈر، ممبر یا عہدیدار کو مالی معاونت نہیں دے گا۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لسٹ میں شامل شخص کو 90 دن سے 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے گا۔بل کے متن کے مطابق تعلیمی ادارے کسی شخص کو پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث ہونے یا اس کا پرچار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اس کے علاوہ کوئی سرکاری ملازم نہ خود نہ اہلخانہ کو پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث ہونے دے گا۔پرتشدد انتہا پسندی کے مواد کو سوشل میڈیا سے فوری اتار دیا جائے گا یا بلاک کر دیا جائے گا، قابل سزا جرم سیشن کورٹ کے ذریعے قابل سماعت ہوگا، جرم ناقابل ضمانت، قابل ادراک cognizable اور non compoundable ہوگا۔بل میں کہا گیا کہ معاملہ کی پولیس یا کوئی اور ادارہ تحقیقات اور انکوائری کرے گا۔پرتشدد انتہا پسندی کے مرتکب شخص کو 3 سے 10سال تک سزا اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا، اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو ایک سے 5 سال تک قید اور10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث تنظیم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، تنظیم تحلیل کر دی جائے گی، قانون کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیم کو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا، جرم ثابت ہونے پر فرد یا تنظیم کی پراپرٹی اور اثاثے ضبط کر لئے جائیں گے۔معاونت یا سازش یا اکسانے والے شخص کو بھی 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔جرم کرنے والے شخص کو پناہ دینے والے کو بھی قید اور جرمانہ ہو گا، حکومت کو معلومات یا معاونت دینے والے شخص کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، حکومت لسٹ میں شامل شخص یا تنظیم کے لیڈر اور ممبران کو گرفتار کر کے 90 روز تک حراست میں رکھ سکتی ہے، مدت میں 12 ماہ تک توسیع ہو سکتی ہے، متاثرہ شخص کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ہوگا۔






