تہران، واشنگٹن: ایران نے آج صبح بحرین، کویت اور اردن پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ اس سے پہلے امریکا نے ایران کے اندر مزید گہرائی تک فوجی کارروائیاں کیں اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سخت کر دی۔
ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، ایران کی فوج نے اعلان کیا کہ دشمن کی جارحیت کے جواب میں اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران سے آنے والے 8 ڈرونز کو فضا میں ہی کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں علی السالم ایئر بیس پر امریکی ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں اجتماع کو ہدف بنایا جبکہ کویت نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل اور ڈرونز کو روک لیا۔
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ عراق کے ام قصر پورٹ بیس پر امریکی فوجیوں کے مقام کو بھی نشانہ بنایا ہے، مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں میں عراق میں دونوں اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجے اور عوام کو پناہ لینے کی ہدایت کی گئی، یہ حملے امریکا کے ایران بھر میں فوجی اہداف پر رات بھر کے فضائی حملوں کے بعد ہوئے، جن میں تہران کے گرد علاقے بھی شامل تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ایران نے درجنوں میزائل اور ڈرونز خلیجی ممالک پر داغے، امریکی حملے اس بار ایران کے شمالی حصوں تک پہنچے جن میں تہران اور صوبہ سمنان شامل ہیں، جہاں بیلسٹک میزائل اور خلائی پروگرام کی تنصیبات ہیں۔
سینٹکام کے مطابق امریکا نے گریٹر تنب جزیرے پر بھی حملے کیے، جن میں ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا، کارروائیوں کا نیا سلسلہ مکمل کر لیا ہے، فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے مزید کہا کہ حملے اہواز، بندر عباس، کنارک، سیریک اور قشم کے قریب بھی ہوئے، اہواز میں ایک ہسپتال کے قریب حملے کے بعد بچوں کے کینسر وارڈ کو عارضی طور پر خالی کرایا گیا۔






