راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آج کا دن ہم سب کے لیے قابل فخر ہے، دشمن کی جارحیت کا قومی وحدت و جرأت سے جواب دیا گیا، پاکستان نے ہمیشہ دشمن کے اندازوں کو ناکام بنایا۔
معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب ہو رہی ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے شہدا کی یادگار پر حاضری دی اور پھول رکھے، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی پیش کی ہے۔
معرکہ حق کی پہلی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ معرکۂ حق میں اللہ تعالیٰ کی رضا سے پاکستان، عوام اور مسلح افواج کو ایک بے مثال کامیابی ملی، معرکۂ حق دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکۂ تھا جس میں حق فتح یاب اور باطل ہزیمت سے دو چار ہوا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ہندوستان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کو عسکری جارحیت اور سفارتی تنہائی کا نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، اس کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے جسے پاکستان کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا، چھلے ایک برس کے دوران پاکستان کے قومی وقار میں بہت اضافہ ہوا جس اعتراف دنیا بھر میں ہو رہا ہے، آج ماضی کے مقابلے میں دنیا بھر میں ہمارے دوستوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں معرکۂ حق کے تمام شہداء اورغازیوں بالخصوص شہید ہونے والی نہتی عورتوں، بوڑھوں اورمعصوم بچوں کو پوری قوم اور افواج پاکستان کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، ہم اپنے شہداء کی قربانی کو امانت، اپنی طاقت کو ذمہ داری اور اپنی کامیابی کو خدائے بزرگ و برتر کا احسان سمجھتے ہیں۔
فیلڈ مارزشل نے اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جبکہ میڈیا، صحافتی برادری اور نوجوانوں نے دشمن کے پروپیگنڈا اور سائبر وارفیئر کو ناکام بنایا، معرکۂ حق صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی جیتا گیا، جہاں عوام نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا، جب جنگ کے بادل منڈلائے تو ہر طبقہ فکر نے پاکستانیت کے جذبے کے تحت ایک صف میں کھڑے ہو کر دفاع وطن کے لیے کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس مضبوط دفاعی صلاحیت اور قومی عزم کو دیکھتے ہوئے بھارت نے جنگ بندی کی خواہش مختلف عالمی اور بیرونی قوتوں کے ذریعے ظاہر کی، شکست خوردہ بھارت نے امریکہ کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں قبول کیا۔






