تحریر (محمد عسکری نقوی)
نقطہ نظر
کچھ لوگ رشتوں میں اس حد تک گر جاتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں رہتا کہ وہ محبت نہیں، ترس مانگ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ زیادہ جھک جائیں گے، زیادہ برداشت کریں گے، زیادہ نظر انداز ہوں گے تو شاید سامنے والا رک جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو انسان تمہیں کھو دینے کے خوف سے خالی ہو، وہ تمہیں کبھی سنبھال کر نہیں رکھتا۔
تلخ سچ یہ ہے کہ
لوگ اسی کو اہم سمجھتے ہیں
جسے کھونے کا ڈر ہو۔
جو ہر وقت دستیاب ہو، جس کی خاموشی بھی معافی ہو، جس کا غصہ بھی وقتی ہو — وہ دل نہیں جیتتا، وہ عادت بن جاتا ہے۔ اور عادت کی قدر نہیں کی جاتی، اسے صرف استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ کیسی محبت ہے جس میں
صرف ایک فریق انتظار کرے،
اور دوسرا اپنی سہولت کے مطابق لوٹے؟
ریلیشن شپ وہاں مر جاتی ہے جہاں ایک انسان اپنی عزت، اپنی نیند، اپنی انا، سب قربان کر کے بھی “سمجھوتہ کرنے والا” کہلاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سمجھوتہ کرنے والا نہیں، وہ خود کو مٹا دینے والا ہوتا ہے۔
جو بار بار یہ پوچھے:
“میں تمہارے لیے کیا ہوں؟”
وہ پہلے ہی کچھ نہیں رہتا۔
محبت سوال نہیں مانگتی،
محبت یقین چاہتی ہے۔
کچھ لوگ جان بوجھ کر فاصلے رکھتے ہیں تاکہ سامنے والا اور جھکے، اور کچھ لوگ اسی جھکاؤ کو محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان رشتے میں نہیں، ذلت میں داخل ہو جاتا ہے۔
کڑوی حقیقت یہ ہے کہ
جو تمہیں کھونے پر راضی ہو،
اسے پانے کی ضد بے وقوفی ہے۔
خاموشی اختیار کرو۔ پیچھے ہٹو۔ خود کو دیکھو۔ جو واقعی اپنا ہوگا، وہ اس خلا کو محسوس کرے گا۔ اور جو محسوس نہ کرے، اس کا نہ ہونا ہی تمہاری زندگی کی سب سے بڑی بہتری ہے۔
ہر بار لڑ کر، سمجھا کر، رو کر،
رشتہ نہیں بچایا جاتا۔
کچھ رشتے چھوڑ کر ہی
خود کو بچایا جاتا ہے۔
اس لیے یہ اصول یاد رکھو:
جہاں خودداری ختم ہو،
وہاں محبت بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
اور آخر میں ایک جملہ جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:
دوستی اور ریلیشن شپ مانگنے کی چیز نہیں،
یہ دی جانے والی نعمت ہوتی ہے۔






