لاہور: ستمبر کے آغاز سے پاکستان میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں ماہ کے پہلے دس روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 28 روپے 9 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 22 روپے 26 پیسے فی لٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ستمبر کے پہلے عشرے میں پٹرول کی قیمت میں یومیہ بنیادوں پر چھ مرتبہ اضافہ کیا گیا، جبکہ ایک موقع پر قیمت میں کمی بھی کی گئی۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اس دوران مجموعی طور پر سات مرتبہ اضافہ ہوا۔
10 ستمبر 2026 سے پٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 392 روپے 67 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 9 ستمبر کو پٹرول 364 روپے 35 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 385 روپے 95 پیسے فی لٹر تھا۔ اس سے ایک روز قبل 8 ستمبر کو پٹرول کی قیمت 358 روپے 77 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لٹر مقرر تھی۔
اس سے قبل 5 ستمبر کو پٹرول 345 روپے 87 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے 5 پیسے فی لٹر فروخت ہو رہا تھا۔ یوں 5 سے 10 ستمبر کے دوران پٹرول کی قیمت میں 21 روپے 88 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ قیمت کے مقابلے میں پٹرول اپنی اصل لاگت سے 133 روپے 2 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 122 روپے 55 پیسے فی لٹر مہنگا ہے۔
پٹرول کے ایک لٹر پر لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں 131 روپے 60 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈیزل پر فی لٹر 122 روپے 55 پیسے لیوی، ٹیکس اور مارجنز عائد ہیں۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق پٹرول کی فی لٹر لاگت 234 روپے 73 پیسے بنتی ہے، تاہم صارفین کو یہ 367 روپے 75 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکا کی جانب سے ایران کے ایک جنگی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں پانچ ایرانی ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی میں آٹھ ٹینکروں، دو جنگی جہازوں اور اردن میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے آگے بحیرہ عرب تک پھیلے ہوئے سمندری علاقے میں جہاز رانی کے لیے نئے ممنوعہ زون کے قیام کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی متعدد تیل تنصیبات میں آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مختلف ممالک میں صارفین کو پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جبکہ عالمی کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔






