خاموش معاشرہ

تحریر: سیدہ فروا کاظمی

ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، وہاں ترقی کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر اگر ذرا غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی اقدار کھوتے جا رہے ہیں۔ آج ہر شخص اپنی مصروفیات میں اس قدر الجھ چکا ہے کہ اسے اپنے آس پاس کے لوگوں کے دکھ، مسائل اور تکالیف کا احساس ہی نہیں رہتا۔

کبھی ہمارے محلوں میں ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا۔ خوشی ہو یا غم، سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ آج وہی محلے اونچی دیواروں اور بند دروازوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے نام تو جانتے ہیں، مگر حالات سے بے خبر ہیں۔ رشتے موجود ہیں، مگر تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے رابطے آسان ضرور کر دیے ہیں، لیکن دلوں کے فاصلے بھی بڑھا دیے ہیں۔ ہم سینکڑوں لوگوں کی پوسٹیں دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے ہی گھر والوں سے چند منٹ بات کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے۔ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے حسد، تنقید اور نفرت جیسے رویے عام ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک مہذب معاشرہ صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا جدید سہولیات سے نہیں بنتا بلکہ اس کی اصل پہچان وہاں کے لوگوں کا کردار، اخلاق اور ایک دوسرے کے لیے احساس ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے رویوں کو بہتر نہ بنایا تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی رہ جائیں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر انسانیت، برداشت، احترام اور ذمہ داری کے جذبے کو دوبارہ زندہ کریں۔ کسی ضرورت مند کی مدد، کسی دکھی دل کو تسلی دینا، سچ بولنا، قانون کا احترام کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔

قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ کردار سے بنتی ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھائے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور باہمی احترام کی مثال بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں