پی جی آئی ۔۔ہر جنس اہم ہے

وقار فانی مغل

ہلالِ احمر کیلئے ہر فرد اہم ہوتا ہے۔اسی شاندار تاریخ کے حامل ہلال احمر پاکستان نے محترمہ فرزانہ نائیک کی سربراہی میں
سیلاب متاثرہ علاقوں میں خدمات کو تمام تر تفریقات اور امتیاز سے بالائے طاق رکھا ہوا ہے۔ انسانی خدمت کے ادارہ کے طور پر ہلالِ احمر پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہےکہ کوئی بھی متاثرہ فرد رہ نہ جائے، کوئی بھی طبقہ نظر انداز نہ ہو۔ اِس ضمن میں ایک وسیع تر پروگرام پوری طرح سے فعال اور متحرک ہے۔
اس کار خیر کو
عام فہم زبان میں ”پروٹیکشن جینڈر انکلوژن“ کا نام دیا گیاہے۔ اِس پروگرام کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ ہر فرد کو تشدد، استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جائے۔ جینڈر کی اصطلاح میں مرد، خاتون خواجہ سرا اور جنس، عمر اور معذوری یا جسمانی حیثیت کا حامل ہو اُسے امدادی پروگراموں میں شامل رکھنا ضروری ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا بھی حد درجہ خیال رکھا جاتا ہے۔ ہلالِ احمر پاکستان نے ”پروٹیکشن جینڈر انکلوژن“ کے اُصولوں کو اپنی تمام تر سروسز میں شامل کررکھا ہے تاکہ قدرتی آفات یا تنازعات سے متاثرہ افراد کو صرف خوراک، پینے کا صاف پانی، طبّی سہولت، نفسیاتی امداد اور عارضی پناہ گاہ ہی نہ دی جائے بلکہ ہر متاثرہ فرد کی عزت نفس اور تحفظ کا بھی مکمل خیال رکھا جائے۔ خواتین، لڑکیوں، بچیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیاجائے،جہاں وہ اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرسکیں۔ تجاویز دے سکیں اور اپنی ضروریات کے مطابق مدد حاصل کرسکیں۔ صنفی بنیاد پر تشدد کی یکسر نفی کی گئی ہے۔ ہلالِ احمر پاکستان ہمیشہ سے قدرتی آفات کے بعد عارضی پناہ گاہوں اور کیمپوں میں خواتین اور بچیوں کیلئے علیحدہ محفوظ جگہیں قائم کرتا ہے۔ یہاں خواتین رضاکار خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اِن حالات میں معذور افراد کیلئے بھی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انہیں مذکورہ سروسز کی فراہمی میں شامل رکھا جاتا ہے۔ حالیہ سیلاب میں بھی ہلالِ احمر پاکستان نے جہاں جہاں خدمات فراہم کیں وہ ”پروٹیکشن جینڈر انکلوژن“ کی عملیت پر یقینی طور پر عمل کیا۔ رسائی کے قابل انفراسٹرکچر جیسے ریمپس، خصوصی طبّی امداد کی فراہمی یقینی بنائی گئی تاکہ معذور افراد بھی خود مختار زندگی گزار سکیں۔ اِسی طر ح پورا سال پی جی آئی سے متعلق آگاہی سیشن اور تربیتی ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔کمیونٹی سطح پر پروگرام کا انعقاد کرکے صنفی مساوات، بچوں کے تحفظ، سماجی ہم آہنگی پر زور دیا جاتا ہے۔ اِس حساس نوعیت کے پروگرام کیلئے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس نے مرکزی ترجیح دی ہے۔ اِس پروگرام کیلئے سٹینڈرڈ فریم ورک بنایا گیا ہے۔ جس کے مطابق ہنگامی صورتحال میں ”پروٹیکشن جینڈر انکلوژن“ کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ فیڈریشن کی جانب سے تکنیکی معاونت، فنڈنگ اور تربیت کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی نیشنل سوسائٹی مقامی سطح پر مؤثر اور باوقار انداز سے سروسز فراہم کرسکے۔ کمیونٹی میں کام کرنے والے رضاکاروں اور کارکنوں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ صنفی اور سماجی حساسیت کے ساتھ کام کریں۔ اعداد وشمار (ڈیٹا) جمع کرتے وقت احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔ ذاتی معلومات اکھٹی کرتے وقت متاثرین کی پرائیویسی اور رضامندی کو اوّلیت دی جاتی ہے۔ امداد کی فراہمی اور تقسیم کے وقت خواتین کوشامل رکھا جاتا ہے تاکہ اِن کی ضروریات کو براہِ راست سنا جائے اور پھر ضرورت کا سامان بہم مہیا کیا جائے، قدرتی آفات، تنازعات میں سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہوئے ہیں۔ اِن کی ضروریات اِن کی زبانی سن کر پوری کی جائیں تو مشکلات میں واقعتا کمی آتی ہے۔ پی جی آئی نے اِس ضمن میں آج کامیابی سمیٹی ہے۔ خواتین کی صحت کی دیکھ بھال، صحت و صفائی کی سہولیات، علاج طبّی امداد کے علاوہ اِن کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پی جی آئی صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ یہ انسانیت کی اصل روح ہے۔ ہلالِ احمر پاکستان نے یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، قدرتی آفات جیسے حالیہ سیلاب اور فلاحی پروگراموں میں کوئی بھی فرد نظر انداز نہ ہو کوئی بھی متاثرہ پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ پروگرام اہمیت اور افادیت کا حامل ہے یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت صرف امداد کی فراہمی کا نام نہیں بلکہ متاثرہ لوگوں کا احترام، ہرفرد کی شمولیت اور ہر متاثرہ کو تحفظ دینے کا نام ہے۔ 2022ء کے سیلاب متاثرین کیلئے پی جی آئی کے تحت گرانقدر خدمات انجام دی گئی تھیں۔خواتین کو صحت کی سہولیات، ہائیجین کٹس کی فراہمی، حاملہ خواتین کو نقد امداد کے علاوہ بااختیاری کے ضمن میں باقاعدہ تربیت کے بعد سلائی مشینیں بھی دی گئیں۔محترمہ فرزانہ نائیک کی سرپرستی میں حالیہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی ہلالِ احمر پاکستان نے پی جی آئی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔چیئرپرسن کی ہدایت پر
سیلاب متاثرہ علاقوں میں پکا پکایا کھانا،پینے کا پانی ،گھریلو ضرورت کا سامان ،طبی سہولیات کی بہم فراہمی آج بھی جاری و ساری ہے۔
اِسی طرح ہلالِ احمر پاکستان ”کیش واؤچر اسسٹنس“ کے تحت متاثرین سیلاب میں نقد امدادی رقم تقسیم کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر متاثرہ فرد کی خدمات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ سی وی اے کے تحت متاثرین کو اِن کی ضروریات کے مطابق خود مختاری کے ساتھ اشیاء ضروریہ خریدنے کا موقع ملتا ہے۔ کوویڈ 19- اور 2022ء کے سیلاب کے دوران سی وی اے کے تحت مدد کو سراہا گیا۔ ایزی پیسہ اور جاز کیش جیسی سہولت میں جہاں شفافیت تھی وہاں نقد پیسے ملنے سے متاثرہ گھرانے اپنی مرضی سے خرچ بھی کرتے تھے۔ اِس پروگرام سے مقامی حیثیت کو بھی فروغ ملا۔ اِس پروگرام کے لاگو ہونے سے امدادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ اِس مدد کو دیرپا اور پائیدار مدد کہا گیا ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں بونیر،
سوات اور دیر آزاد کشمیر کی وادی نیلم اور مظفرآباد جب کہ گلگت بلتستان کے علاقے شگر اور غذر میں متاثرہ اور مستحق
گھرانوں کی نقد مدد کی گئی ہے۔ گزشتہ برسوں میں سلائی کڑھائی کی تربیت کے ساتھ ساتھ سلائی مشینوں معہ ضروری سامان اور نقدی رقم کی فراہمی خواتین کو با اختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
سی وی اے جدید، باوقار اور شفاف امدادی ماڈل ہے۔ یہ فوری ریلیف کا جدید ترین طریقہ اور باعزت زندگی کی جانب پہلا قدم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں