تحریر: راحیل رزاق خان
گزشتہ چند مہینوں میں شمالی علاقوں کی جانب رخ کرنے والے سیاحوں کو جس تسلسل سے خطرناک حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اُس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ علاقے واقعی تفریحی ہیں یا قدرتی موت کا میدان؟ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد کی موت نے معاشرے کو دہلا کر رکھ دیا، مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب احتیاط اور ہوش کا دامن خود چھوڑا جائے تو قدرت بھی بے بس ہو جاتی ہے۔ خبردار کرنے والے پیغامات، میڈیا رپورٹس اور موسمی وارننگز سب کچھ نظر انداز کر کے سفر پر نکلنے والوں کو شاید یہ غلط فہمی ہو چکی ہے کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا۔
جب ہر طرف سے خبریں آرہی ہوں کہ بارشیں جاری ہیں، تودے گر رہے ہیں، سڑکیں بند ہیں، دریا ابل رہے ہیں، تب بھی اگر لوگ “سیر” کے جنون میں سفر شروع کریں تو یہ لاپرواہی نہیں بلکہ خود کو اور اپنے خاندان کو خطرے میں ڈالنے کا عمل ہے۔ ایک طبقے کی حالت یہ ہے کہ بنیادی روٹی کو ترس رہا ہے اور دوسرا طبقہ ہزاروں روپے خرچ کر کے موت کی گود میں جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھنسے ہوئے سیاحوں کی ویڈیوز دیکھ کر لوگ مزید متاثر ہو کر نکل پڑتے ہیں، جیسے کوئی مقابلہ ہو کہ خطرناک ترین مقام پر کون پہلے پہنچتا ہے۔ پورے خاندان، بزرگوں، بچوں اور خواتین سمیت جب ایسی جگہوں پر بھیجا جاتا ہے جہاں کسی بھی لمحے راستہ بند ہو سکتا ہے یا طوفانی ریلا سب کچھ بہا سکتا ہے، تو پھر نتیجہ صرف افسوس اور جنازے رہ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور فوری اپ ڈیٹس کے دور میں اب اگر کوئی حالات سے ناواقف ہے تو وہ اپنی غلطی کا ذمہ دار خود ہے۔ مگر ہم نے اپنی روش یہ بنا لی ہے کہ عقل کو قربان کر کے فطرت سے ٹکر لینا شجاعت سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت سب پر واضح ہونی چاہیے کہ قدرتی آفات نہ کسی حکومت کے قابو میں ہیں نہ کسی ادارے کے، لیکن حکومت کی یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ سیاحتی علاقوں میں نظم و ضبط پیدا کرے، ریسکیو ٹیمیں تعینات کرے، خطرناک مقامات کی نشاندہی کرے اور بروقت پابندیاں عائد کرے۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ کئی ایسے سانحے صرف اس لیے رونما ہوتے ہیں کہ وہاں جانے سے پہلے کوئی گائیڈ لائن یا سہولت موجود نہیں ہوتی اور مقامی افراد کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا کیونکہ ان کے پاس اختیار نہیں ہوتا۔
چلاس کے حالیہ واقعے نے بھی یہی سبق دیا کہ وقت پر اگر راستے بند کیے جاتے، سیاحوں کو واپس بھیجا جاتا یا روکا جاتا تو شاید قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ موسم کی شدت، بارشیں، سیلابی ریلے، سب کچھ ایک عرصے سے متوقع تھا، مگر پھر بھی لوگ نکلے، اور کچھ تو لوٹے ہی نہیں۔ اب یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ کیا ہمارے سیاحتی ادارے صرف تب حرکت میں آئیں گے جب لاشیں گنی جائیں گی؟ کیا ہم بیرون ملک سے آنے والوں کو ایسی بے انتظامی کا سامنا کروا کر خوش آمدید کہیں گے؟ دنیا میں سیاحت کی بنیاد سہولت، حفاظت اور رہنمائی پر ہے، جبکہ ہمارے ہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ سیاحت کو نظم دیا جائے، عقل کو ترجیح دی جائے اور تفریح کو زندگی کی قیمت پر نہ تولا جائے، ورنہ یہ “شوقِ سیاحت” ہمیں مزید ماتم، مزید لاشیں اور مزید شرمندگی کے سوا کچھ نہ دے گا۔






