اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (DHR) نے آج نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں “انٹرنیشنل ویک آف دی ڈس اپیئرڈ” کی مناسبت سے ایک شجر کاری کی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کا مقصد جبری گمشدگی کا شکار افراد کی یاد کو قائم رکھنا اور ان معاشرے کے ان افراد کی جدوجہد کو سراہنا تھا جنہوں نے سچ، انصاف اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے انتھک محنت کی.
ہر سال مئی کے آخری ہفتے کو عالمی سطح پر “انٹرنیشنل ویک آف دی ڈس اپیئرڈ” منایا جاتا ہے تاکہ ان ہزاروں افراد کی حالت زار کو اجاگر کیا جا سکے جو تاحال لاپتہ ہیں، اور حکومتوں پر زور دیا جا سکے کہ وہ جبری گمشدگی جیسے جرم کو تسلیم کریں، اس کو قابلِ سزا جرم قرار دیں اور بین الاقوامی معاہدوں خصوصاً “انٹرنیشنل کنونشن فار دی پروٹیکشن آف آل پرسنز فرام انفرسڈ ڈس اپییرنس” کی توثیق کریں۔
ڈی ایچ آر نے اب تک جبری گمشدگی کے 3,122 کیس درج کیے ہیں۔ جن میں سے 1,377 کیسز ابھی تک حل طلب ہیں۔ یہ غیر انسانی عمل کھم کھلا جاری ہے اور متاثرہ خاندانوں کو نہ بحالی کی کوئی سہولت دی گئی ہے اور نہ ہی معاوضہ فراہم کیا گیا ہے، جس کے باعث وہ خاموشی سے اذیت سہہ رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی کمیشن آف انکوائری آن انفرسڈ ڈس اپیئرنس نے گیارہ ہزار سے زائد جبری طور پر گمشدہ افراد کے کیسز کو درج کیا ہے۔
اس موقع پر ڈی ایچ آر کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ انکار اور خاموشی کے اس ماحول میں، ہم یہ درخت ان افراد کی یاد میں لگا رہے ہیں جو جبری طور پر گمشدہ ہیں اور ان کے لیے جو انصاف کی تلاش میں استقامت سے کھڑے ہیں۔ ہر درخت یاد اور مزاحمت کی علامت ہے۔
تقریب کے دوران ممتاز انسانی حقوق کے علمبرداروں، سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے درخت لگائے۔ ان معزز شخصیات میں شامل تھے:
افنان اللہ (سینیٹر، مسلم لیگ ن)
اظہر جتوئی خان (صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد)
فرحت اللہ بابر (انسانی حقوق کے علمبردار اور سابق سینیٹر)
افراسیاب خٹک (انسانی حقوق کے علمبردار اور سابق سینیٹر)
شیریں مزاری (سابق رکنِ قومی اسمبلی)
طاہرہ عبداللہ (انسانی حقوق کی کارکن)
میاں محمد اسلم (نائب امیر جماعتِ اسلامی)
سینیٹر مشتاق احمد (انسانی حقوق کے علمبردار اور سابق سینیٹر)
آمنہ مسعود جنجوعہ (چیئرپرسن ڈی ایچ آر)
کامران منہاس (سیکرٹری ڈی ایچ آر)
ان تمام سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے درخت لگا کر بھرپور آواز میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو فوری ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنے انسانی حقوق اور داخلی مسائل کو حل کر کے ایک مضبوط ، خوشحال، اور ناقابلِ شکست قوم بن سکتے ہیں ۔
اس موقع پر ڈی ایچ آر مطالبہ کرتی ہے کہ ریاست فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے۔
تمام جبری طور پر گمشدہ افراد کو رہا کیا جائے
تمام جبری طور پر گمشدہ افراد کے بارے میں سچ سامنے لایا جائے
متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی اور ازالے کو یقینی بنایا جائے
اور اس انسانیت سوز جرم کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔






