اسلام آباد(قوم انٹرنیشنل)سپریم کورٹ آف پاکستان کا 3 رکنی بینچ آج پاکستان تحریک انصاف کیلئے بلے کے انتخابی نشان کی بحالی فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کرے گا۔
پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر انتخابی نشان بحال کردیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ بینچ کے دیگر ججزمیں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان دینے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آٸی نے انٹر پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے تحت نہیں کروائے۔پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے، ہاٸیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کی اپیل کو ڈائری نمبر 657 لگا دیا گیا۔
یاد رہے کہ بدھ 10 جنوری کو پشاورہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس دینے کا فیصلہ دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ ویب سائٹ پر بھی جاری کیا جائے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پرجاری نہیں کیا۔






