اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)سینیٹ نے الیکشن ملتوی کرنے اور انتخابی شیڈول معطل کرنے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لیں، سینیٹر دلاور خان نے قرارداد پیش کی، جب کہ ن لیگ کے افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کی۔ کچھ دیر بعد اسی نوعیت کی قرارداد ایک بار پھر منظور کرلی گئی۔
سینیٹ اجلاس میں سینیٹر دلاور خان نے الیکشن کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے قرارداد پیش کی اور مؤقف پیش کیا کہ ایک قرار داد سینیٹ سیکرٹریٹ کو جمع کروائی ہے، بہرا مند تنگی نے جو بات کی اسی پر ایک قرار داد لانا چاہتا ہوں۔
قرارداد کے متن میں ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورتحال خراب ہے، مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے ہیں، ایمل ولی خان اور دیگرسیاسی رہنماؤں کو تھرٹ ملے ہیں، الیکشن کے انعقاد کے لئے ساز گار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں جاری ہیں، اور محکمہ صحت ایک بار پر کورونا وبا کے پھیلنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے صوبوں میں باالخصوص الیکشن مہم کو چلانے کے لئے مساوی حق دیا جائے، الیکشن کمیشن 8 فروری کا الیکشن شیڈول معطل کرے، الیکشن کمیشن شیڈول معطل کرکے ساز گار ماحول کے بعد شیڈول جاری کرے۔
سینیٹ نے قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی، تاہم سینیٹ میں موجود 14 اراکین میں سے واحد رکن مسلم لیگ ن کے افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کی۔ اور سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا التواء خواہش ہو سکتی لیکن ممکن نہیں۔
سینیٹر دلاور خان نے انتخابات ملتوی کی قرار داد پیش کی تو ایوان میں اس وات کل 14اراکان موجود تھے۔
اجلاس میں سینیٹر دلاور، بہرہ مند تنگی، افنان اللہ، گردیپ سنگھ، عبدالقادر، ثمینہ ممتاز، ہلال الرحمان، نصیب اللہ بازئی، کہدہ بابر، پرنس احمد عمرزئی، سینیٹر احمد عمر، ثنا جمالی، کامل علی آغا اور منظور کاکڑ بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق ایوان میں انتخابی شیڈیول معطل کرنے کی قرارداد قراد داد پیش کرتے وقت وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی سولنگی ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اور جب مرتضی سولنگی ایوان میں آئے تو ایوان میں ایک بار پھر قرارداد پیش ہوئی۔
دوسری بار بھی کثرت رائے سے انتخابات معطل کرنے کی قرار داد ایوان نے منظور کرلی، وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی سولنگی نے بھی الیکشن التواء کی قرار داد کی مخالف کی۔
چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔
واضح رہے کہ دلاور خان مارچ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخوا سے ٹینکو کریٹ کی نشست پر بطور آزاد منتخب ہوئے تھے۔






