اپنے منہ میاں مٹھو

بھلے وقتوں میں اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا اور اپنی خوبیاں بیان کرنا انتہائی معیوب سمجھاجاتا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے اب خود نمائی کو ہنر سمجھتے ہوۓ ہر شخص اور ادارہ اپنی کارکردگی کے قصیدے ہر جگہ بیان کر رہا ہے گویا جو بات کبھی عیب تصور کی جاتی تھی اب وہی بات باعث افتخار سمجھی جاتی ہے جبکہ اپنی خوبیوں کو اپنی زبان سے بیان کرنا دینی و سماجی اعتبار سے بھی مزموم حرکت ہے گرچہ اپنے منہ سے کی گئی تعریف حقیقت پر مبنی ہی کیوں نہ ہو مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جس طرح ہر ادارہ اپنی نام نہاد کارکردگیوں کے قصے عوام تک پہنچانے کی تگ و دو میں ہے ٹھیک اس طرح پنجاب پولیس کا محکمہ بھی اب خودنمائی کی اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔ محکمہ پولیس کے پاس پڑے ہوۓ ھزاروں زیر التواہ کیسز میں سے کسی ایک کیس میں کامیابی حاصل ہونے پرشوشل میڈیا کے زریعے قصیدے لکھے اور پڑھے جا رہے ہیں جبکہ ہر تھانہ میں درج موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چوری سمیت ہزاروں ایسے کیسز ہیں جن پر کبھی کاروائی نہیں کی جاتی اور کچھ عرصہ بعد ان کیسز کو عدم پتہ کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے داخل دفتر کر دیا جاتا ہے جبکہ متاثرہ سائلین تھانوں کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے ہیں اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے خریدی اشیاء کے نقصان پر خون کے آنسو روتے رہتے ہیں۔ عوام یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ صوبہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں ہر دن اضافہ ہونے کے باوجود نہ جانے کس کارکردگی کی بنیاد پر محکمہ پولیس میں ترقیوں کی لوٹ سیل بھی جاری ھے جبکہ چوری ڈکیتی اور قتل جیسی سنگین وارداتوں نے صوبہ پنجاب کی عوام کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور محکمہ پولیس کی کارکردگی اور ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور آئی جی صاحب کی سرپرستی میں پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کو استعمال کرتے ہوئے بہت سے کیسز میں کامیابی بھی حاصل کی ہے مگر ابھی تک وہ محکمہ پولیس میں موجود ان کالی بھیڑوں کو سزا دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے جن کی نا اہلی کے باعث فورس میں موجود فرض شناس اور ایماندار پولیس اہلکاروں کے اچھے کارناموں کو عوام کی جانب سے وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوتی جس کے وہ حقدار ہیں آئی جی پنجاب کو چاہیے کہ علاقائی سطح پر تھانوں کی کارکردگی کے چیک اینڈ بیلنس میں بہتری لائیں اور جس طرح وہ بہترین کارکردگی پر افسران و اہلکار ان کی حوصلہ افزائی سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں ٹھیک اسی طرح فرائض میں کوتاہی برتنے والے اہلکاروں کی سرزنش بھی سوشل میڈیا پر کریں تاکہ خود نمائی کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کا عمل بھی عوام کو ہوتا نظر آسکے اور عوام یہ سمجھ سکے کہ انہیں تصویر کے دونوں رخ دکھائے جا رہے ہیں ورنہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی پولیس کی تمام کار کردگیوں کو عوام اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی مصداق ہی سمجھیں گے دعا ھے کہ اللہ تعالی ہمیں تواضع اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کوسوں دور رکھے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں