لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اور سابق مشیر وزیراعظم عطا تارڑ کو تھانہ علی پور چٹھہ حملہ کیس میں باعزت بری کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے دوران تھانہ علی پور چٹھہ حملہ کیس میں باعزت بری کر دیا گیا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ ان پر مقدمہ شیخ رشید اور فواد چوہدری کی ایما پر درج کیا گیا۔مجھے تین سال جیل میں رکھنے کا کہنے والے آج خود سلاخوں کے پیچھے ہیں، 2021 سے مقدمے کا مکمل سامنا کیا۔ مقدمہ سے باعزت بریت الیکشن کمپین کا آغاز ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ تھانے پر حملے کا مقدمہ میری آواز دبانے کی سازش تھی
۔الیکشن میں دیگر جماعتوں سے اتحاد کی باتیں قبل از وقت، فیصلہ قیادت نے کرنا ہے۔ ایم کیو ایم سے معاملات طے پا چکے۔ لیگی قیادت بلوچستان میں مشاورت کے لیے جارہی ہے، وہاں کچھ بڑے چہرے شمولیت اختیار کریں گے اور صورت حال مزید بہتر ہو گی۔عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کی صورتحال 30 نومبر کے بعد واضح ہو گا۔ الیکشن 8 فروری کو ہی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ مقدمہ کا فیصلہ سول جج محمد آصف کی عدالت نے کیا۔عطا تارڑ اور کے ساتھیوں پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے دوران تھانہ علی پور چٹھہ پر حملے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔






