دریائے ستلج اورراوی کے پانی میں اضافہ،حفاظتی بندٹوٹنےسے سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا

قصور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) دریائے ستلج کے پانی میں اضافہ،ندی نالوں میں طغیانی آگئی،حفاظتی بندٹوٹنےسے سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہوکررہ گئے ہیں۔متاثرہ لوگوں نے حکومت کی جانب سے بجلی کے بل معاف نہ کرنے پر احتجاج کرتے نظرآئے۔ تفصیلات کے مطابق قصور کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں طغیانی آگئی ہے،ستلج کی سطح ٹھہراؤ کے بعد پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہے،پیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 20 فٹ سے اوپر ہو گئی،ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 60 ہزار کیوسک کے قریب پہنچ گیا جبکہ پانی سے چندا سنگھ والا کا راستہ بہہ کر 5 فٹ گہرا گڑھ بن گیا۔خواتین ، بچے، بوڑھے ، جانور گاؤں میں محصور ہوکررہ گئے ہیں، انتظامیہ نے گاؤں خالی کروانے کا اعلان کیا تھا،اعلانات کے باوجود لوگ گھروں میں موجود ہیں، دیہات خالی نہ کروائے جاسکے۔دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے درجنوں دیہات کا زمینی راستہ تاحال منقطع ہے۔حکومت کی طرف سے سہجرہ یونین کونسل کے بیشتر دیہاتوں کے لئے بجلی کے بلوں میں ریلیف دے دیا گیا ہے ۔ کچھ دیہات جن میں کالو واڑا ، حاکو والا ، کمال پورہ و دیگر دیہات کے متاثرین بل معاف نہ ہونے پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور وزیراعظم سے بل معاف کرنے کی اپیل بھی کی۔ادھرتازہ ترین اطلاعات کے مطابق خیرپور ٹامیوالی میں دریائے ستلج پر موضع بھنڈا چدھڑ کے قریب بنایا گیا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، سینکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت فصلیں زیر آب آگئیں، سیلاب کے شدید خطرات کے پیش نظر یہ بند تعمیر کیا گیا تھا۔بورے والا میں ہیڈ اسلام ورکس پر پانی کا بہاؤ 54 ہزار کیوسک سے تجاوز کرگیا، دریائے ستلج کی بیلٹ میں واقع بستیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، متاثرہ علاقوں سے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ڈپٹی کمشنر نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کا جائزہ لیا، ان کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، پنجاب حکومت کی ہدایات پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، نشیبی علاقوں سے 1700 افراد کو ریسکیو کرچکے ہیں۔دوسری جانب ننکانہ صاحب میں دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار ہے، ایک درجن سے زائد دیہات کو دریا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، لوگوں کی فصلیں اور گھر پانی میں ڈوب گئے، کئی مقامات سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق کچھ مقامات سے مکینوں نے نقل مکانی سے انکار کردیا، آبادیوں میں پانی آجانے سے معلومات زندگی بری طرح متاثر ہیں، حاجی ملکے، ٹھٹھہ مہراں، کوٹ ہدایت، مچھوڑا، بونگی سیلابی پانی میں ڈوب گئے جبکہ چیڈو، موہلاں، ہلا پیراں، بگا ڈوگراں، اعوان ٹالی بھی سیلاب کی لپیٹ میں آگئے۔دریائے راوی میں سیلاب کے باعث کاشت کی گئیں تل، مکئی، جوار، چاول اور گنے کی فصلیں مکمل تباہ ہوگئیں جبکہ ٹیوب ویلز، ڈیروں، حویلیوں اور زرعی مشینری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ڈی سی کے مطابق ہیڈ بلوکی کے مقام پر 39 ہزار 250 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے، سینکڑوں افراد اور ہزار سے زائد جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، لوگوں کی مدد کیلئے لگائے کیمپس میں مفت کھانا اور ادویات دی جا رہی ہیں، متاثرہ علاقوں اور گھروں تک پہنچ کر لوگوں کی خاص مدد کر رہے ہیں۔جبکہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی، سکھر بیراج پر پانی کی سطح 4 لاکھ 44 ہزار 40 کیوسک تک پہنچ گئی جبکہ گڈو بیراج پر مزید 11 ہزار کیوسک پانی کم ہوگیا، جس کے بعد پانی کی آمد 4 لاکھ 69 ہزار 899 کیوسک ریکارڈ کی گئی، کوٹری بیراج پر پانی کی سطح ایک لاکھ 81 ہزار 956 کیوسک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں