چیچک: اب محض بچپن کی بیماری نہیں، اسلام آباد سمپوزیم میں ماہرین کا اہم پیغام

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن اسپتال کے ایم سی ایچ ٹریننگ ہال میں جمعرات کو منعقدہ سائنسی سمپوزیم میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ چیچک (ویریسیلا) کو اب صرف بچپن کی ایک معمولی بیماری سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کی بروقت روک تھام اور ویکسینیشن کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

سمپوزیم کا انعقاد Visole Group of Companies نے چینی ویکسین ساز ادارے SINOVAC کے اشتراک سے کیا، جس میں ملک بھر کے ممتاز وائرولوجسٹس، ماہرینِ اطفال اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز Visole Group of Companies کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ظفر محمود کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمپوزیم ویریسیلا کی روک تھام کو وہ اہمیت دلانے کی ایک کوشش ہے جس کی یہ بیماری حقیقی معنوں میں مستحق ہے، کیونکہ اسے اکثر ایک عام اور بے ضرر بیماری سمجھ لیا جاتا ہے۔

سمپوزیم کے مرکزی مقرر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کے فیکلٹی آف پیتھالوجی کے سابق ڈین اور آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی (AFIP)، راولپنڈی کے شعبۂ وائرولوجی کے سابق سربراہ میجر جنرل (ر) پروفیسر اعجاز غنی تھے۔ انہوں نے ویریسیلا کی امیونولوجی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ویکسین جسم میں مدافعت کیسے پیدا کرتی ہے، ویکسین لگوانے والے افراد میں بھی بعض اوقات انفیکشن کیوں ہو جاتا ہے، اور موجودہ سہولیات کے باوجود کون سے طبقات اب بھی سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

بعد ازاں کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن ڈاکٹر سید اویس نے کلینیکل نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے روزمرہ طبی عمل میں چیچک کے مریضوں کے علاج، تشخیص اور روک تھام سے متعلق اہم پہلوؤں پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ معالجین کو ایسے کیسز میں کن طبی عوامل کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ مریضوں کو بہتر علاج اور مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

چینی کمپنی SINOVAC کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے بوچاؤ وو نے کمپنی کی نئی ویکسین PROVARIX® کا تعارف کرایا، جو نئی نسل کی Live Attenuated Varicella Vaccine ہے۔ انہوں نے ویکسین کی تیاری، سائنسی بنیاد اور دنیا بھر میں ویریسیلا کی روک تھام کے لیے اس کے کردار پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

سمپوزیم کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں ماہرینِ اطفال، وائرولوجسٹس اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے مقررین اور وفد سے مختلف سائنسی اور طبی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چیچک کو محض بچپن کی ایک معمولی بیماری سمجھنے کا تصور بدلنے کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان میں ویریسیلا کی روک تھام، ویکسینیشن اور آگاہی کے حوالے سے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سمپوزیم کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس موضوع پر جاری علمی مکالمہ مستقبل میں بیماری کی مؤثر روک تھام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں